ستمبر 1965 کی جنگ کا دوسرا روز، یعنی 7 ستمبر 1965، پاکستان کی دفاعی تاریخ کا ایک انتہائی اہم اور ولولہ انگیز باب ہے۔ 6 ستمبر کی صبح بھارت کی جانب سے بغیر کسی اعلانِ جنگ کے بین الاقوامی سرحد عبور کر کے لاہور پر حملہ، ایک بڑے پیمانے پر جنگ کا پیش خیمہ ثابت ہوا۔ بھارتی قیادت کا خیال تھا کہ وہ چند گھنٹوں میں لاہور پر قبضہ کر کے پاکستانی قوم کے حوصلے پست کر دے گی، لیکن 7 ستمبر کو پاکستانی افواج اور قوم نے جس عزم اور جرأت کا مظاہرہ کیا، اس نے دشمن کے تمام منصوبوں پر پانی پھیر دیا۔ یہ دن پاکستانی مسلح افواج خصوصاً پاک فضائیہ کی غیر معمولی کارکردگی اور دفاعِ وطن کے لیے بے مثال قربانیوں کی یاد دلاتا ہے، جس نے دشمن کو ہر محاذ پر بھاری نقصان پہنچایا۔
پاک فضائیہ کا شاندار دفاع اور جوابی کارروائیاں
7 ستمبر کا دن پاکستان میں یوم فضائیہ کے طور پر منایا جاتا ہے، اور اس کی سب سے بڑی وجہ پاک فضائیہ کے شاہینوں کی وہ غیر معمولی کارکردگی ہے جس نے اس روز دشمن کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا۔ 6 ستمبر کو بھارتی فضائیہ کے طیاروں نے پاکستانی سرحدوں میں گھس کر حملے کیے تھے، لیکن 7 ستمبر کو پاک فضائیہ نے نہ صرف دشمن کے حملوں کو پسپا کیا بلکہ بھرپور جوابی کارروائیاں کرتے ہوئے بھارتی فضائی اڈوں کو نشانہ بنایا۔
پاک فضائیہ کے طیارے، 7 ستمبر کی طلوع آفتاب سے قبل ہی سرگودھا کے ہوائی اڈے پر بھارت کے ممکنہ حملے کے دفاع کے لیے تیار کھڑے تھے۔ بھارتی حملے کے باوجود، پاک فضائیہ کے طیاروں نے دشمن کا پیچھا کیا اور ان کے کئی طیارے مار گرائے۔ اس کے بعد پاک فضائیہ نے بھارتی ہوائی اڈوں، جن میں پٹھان کوٹ، آدم پور، ہلواڑہ، لدھیانہ، جالندھر، بمبئی، کلکتہ اور سری نگر شامل تھے، پر جوابی حملے کیے اور مجموعی طور پر 31 بھارتی طیارے تباہ کر دیے۔ 1965 کی جنگ کے پہلے دو دنوں میں ہی پاک فضائیہ نے بھارت کے 53 طیارے تباہ کیے تھے۔ پٹھانکوٹ ایئربیس پر پاک فضائیہ کا حملہ آج تک کا سب سے کامیاب فضائی حملوں میں سے ایک سمجھا جاتا ہے، جہاں 13 بھارتی طیارے (7 مگ-21، 5 مسٹیریز، 1 سی-119) تباہ کیے گئے۔
اس دن اسکواڈرن لیڈر محمد محمود عالم (ایم ایم عالم) نے جرأت اور بہادری کی ایک نئی تاریخ رقم کی۔ انہوں نے ایک منٹ سے بھی کم وقت میں بھارت کے 5 لڑاکا طیارے مار گرائے۔ یہ فضائی تاریخ کا ایک عالمی ریکارڈ ہے جو آج تک قائم ہے۔ ایم ایم عالم کے اس کارنامے نے دشمن کے حوصلے پست کر دیے اور پاکستانی فضائیہ کی برتری کو ثابت کر دیا۔ پاک فضائیہ نے زمینی فوج کو بھی بھرپور فضائی معاونت فراہم کی، جو جنگ کا نتیجہ پاکستان کے حق میں پلٹنے میں کلیدی ثابت ہوئی۔
چھمب-جوڑیاں محاذ پر پاک فوج کی پیش قدمی
چھمب-جوڑیاں سیکٹر پر 1965 کی جنگ کا آغاز 1 ستمبر کو ‘آپریشن گرینڈ سلام’ کے ساتھ ہوا تھا، جس کا مقصد اکھنور پر قبضہ کر کے جموں کے لیے بھارت کی سپلائی لائنوں کو منقطع کرنا تھا۔ 7 ستمبر کو بھی اس محاذ پر پاک فوج نے اپنی پیش قدمی جاری رکھی اور دشمن کو بھاری نقصان پہنچایا۔ پاکستانی افواج نے چھمب سیکٹر میں مشرق کی جانب پیش قدمی کرتے ہوئے 15 بھارتی ٹینک قبضے میں لیے اور 150 بھارتی فوجیوں کو جنگی قیدی بنا لیا۔
اس محاذ پر بری فوج کو پاک فضائیہ کی بھرپور حمایت حاصل تھی، جس نے بھارتی پیش قدمی کو روکنے اور پاکستانی افواج کی پیش قدمی کو ممکن بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔ 7 اور 8 ستمبر کی درمیانی رات کو پاکستانی افواج نے بھارتی سرحد کے اندر سات سے آٹھ میل تک پیش قدمی کی۔ چھمب سیکٹر میں میجر جنرل اختر حسین ملک کی کمان میں پاکستانی افواج نے ابتدائی دنوں میں بھارتی دفاع کو توڑا۔ اس سیکٹر میں میجر جنرل اختر حسین کو شاندار بہادری کا مظاہرہ کرنے پر ہلال جرأت سے بھی نوازا گیا۔
لاہور سیکٹر: بھارتی عزائم کی ناکامی
لاہور سیکٹر، جہاں 6 ستمبر کی صبح بھارت نے اچانک حملہ کیا تھا، 7 ستمبر کو بھی شدید جنگ کا مرکز بنا رہا۔ بھارتی جرنیلوں نے لاہور جمخانہ میں ناشتہ کرنے کے خواب دیکھے تھے، لیکن پاک فوج نے ان کے ان خوابوں کو خاک میں ملا دیا۔ بھارتی افواج نے واہگہ، برکی اور گھونڈی سیکٹر میں بھاری نقصان اٹھایا۔
قصور سیکٹر میں، جو لاہور کی طرف بھارتی پیش قدمی کا ایک حصہ تھا، 6 اور 7 ستمبر کو بڑی لڑائی ہوئی۔ 7 ستمبر کو بھارتی افواج کو قصور سے پسپا ہونا پڑا اور پاکستان نے اس محاذ پر فتح حاصل کی۔ اس لڑائی میں پاکستان کی 11ویں ڈویژن نے اہم کردار ادا کیا۔ بی آر بی نہر، جو لاہور کی دفاعی لائن تھی، پر پاک فوج نے مؤثر دفاع کیا اور دشمن کو اسے پار کرنے میں کامیابی نہیں ملی۔
لاہور کے محاذ پر، پاک فوج کی ایک 150 سپاہیوں کی کمپنی نے 12 گھنٹے تک ہندوستان کی ڈیڑھ ہزار فوج کو روکے رکھا، جس سے پچھلی فوج کو دفاع مضبوط کرنے کا بھرپور موقع ملا۔ میجر عزیز بھٹی، جو اس وقت لاہور سیکٹر کے علاقے برکی میں کمپنی کمانڈر تعینات تھے، مسلسل پانچ دن تک بھارتی ٹینکوں کے سامنے سیسہ پلائی دیوار کی طرح ڈٹے رہے۔ ان کی بہادری نے بھارتی پیش قدمی کو روکے رکھا، اگرچہ وہ بعد میں 12 ستمبر کو شہید ہوئے۔
| محاذ | پاکستانی کارروائیاں | بھارتی ردعمل/نقصانات | اہم نکات |
|---|---|---|---|
| پاک فضائیہ (مختلف محاذ) | متعدد بھارتی فضائی اڈوں پر کامیاب حملے (پٹھانکوٹ، لدھیانہ، جالندھر، بمبئی، کلکتہ، سری نگر). ایم ایم عالم کا ریکارڈ ساز کارنامہ (1 منٹ سے کم میں 5 طیارے تباہ). | مجموعی طور پر 31 بھارتی طیارے تباہ. 1965 کے پہلے دو دنوں میں 53 بھارتی طیارے تباہ ہوئے. | یوم فضائیہ کی بنیاد. پاک فضائیہ کی مکمل فضائی برتری. |
| چھمب-جوڑیاں سیکٹر | مشرق کی جانب پیش قدمی جاری، آپریشن گرینڈ سلام کا تسلسل. 15 ٹینک قبضے میں لیے گئے اور 150 بھارتی فوجی قیدی بنائے گئے. | بھارتی افواج کی سخت مزاحمت کا سامنا. | اکھنور کو منقطع کرنے کا ہدف. پاکستانی افواج کی زمینی کامیابی. |
| لاہور سیکٹر (قصور) | بھارتی جارحیت کا بھرپور جواب، قصور محاذ پر بھارتی پسپائی. بی آر بی نہر پر مضبوط دفاع. | لاہور پر قبضے کا بھارتی منصوبہ ناکام. قصور میں بھاری جانی و مالی نقصان. | بھارتی جارحیت کو روکا گیا، دفاعِ لاہور کو یقینی بنایا گیا. |
| سیالکوٹ سیکٹر (چونڈہ) | بھارتی حملوں کا ڈٹ کر مقابلہ. | بھارت نے ایک آرمڈ اور تین انفنٹری ڈویژن کے ساتھ حملہ کیا. | ٹینکوں کی بڑی لڑائیوں کی تیاری، پاکستانی دفاع مضبوط. |
سیالکوٹ محاذ پر دشمن کی پیش قدمی کا مقابلہ
سیالکوٹ سیکٹر، بالخصوص چونڈہ کا محاذ، آئندہ دنوں میں ٹینکوں کی سب سے بڑی جنگ کا میدان بننا تھا۔ 7 ستمبر کو بھی بھارتی افواج نے اس محاذ پر اپنی جارحیت جاری رکھی۔ بھارت نے اپنے جنگی منصوبے کے مطابق اس محاذ پر اپنا سب سے بڑا اور فیصلہ کن حملہ کیا، جس میں چار ڈویژن فوج شامل تھی، جن میں ایک آرمڈ ڈویژن اور تین انفنٹری ڈویژن شامل تھے۔
بھارتی فوج کا مقصد سیالکوٹ کے راستے لاہور-گوجرانوالہ شاہراہ کو کاٹنا تھا۔ لیکن پاکستانی فوج نے، جس کی نفری اور اسلحہ دشمن سے کئی گنا کم تھا، اس حملے کا بھرپور مقابلہ کیا۔ چونڈہ کے مقامی لوگوں نے بھی پاک فوج کے شانہ بشانہ اس جنگ میں حصہ لیا اور اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ اگرچہ چونڈہ میں ٹینکوں کی بڑی جنگ بعد میں لڑی گئی، تاہم 7 ستمبر کو یہاں بھی شدید لڑائی ہوئی اور پاکستانی افواج نے دشمن کی پیش قدمی کو روکا۔ سیالکوٹ شہر کو 1966 میں اس مضبوط مزاحمت پر حکومت پاکستان کی طرف سے قومی اعزاز ‘ہلال استقلال’ سے نوازا گیا تھا۔
بین الاقوامی ردعمل اور سیاسی محاذ
جنگ کے دوسرے روز بین الاقوامی سطح پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا۔ بھارتی وزیر اعظم لال بہادر شاستری نے پاکستان کو جنگ کی دھمکی دی اور ساتھ ہی اعتراف کیا کہ گزشتہ روز پاکستانی افواج نے 4 بھارتی طیاروں کو مار گرایا ہے۔ انہوں نے پاکستان کو جنگ کا دائرہ مشرقی پاکستان تک بڑھانے کی بھی دھمکی دی تھی۔
دوسری جانب، پاکستان کے صدر ایوب خان نے قوم سے خطاب میں بھارت کو تنبیہ کی کہ بھارت نے ابتدا ہی سے پاکستان اور کشمیر کے متعلق اپنی پالیسی کی بنیاد نفرت اور دشمنی پر رکھی ہے، جس کے نتیجے میں سنگین صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ بھارتی جارحیت کا بھرپور جواب دیا جائے گا اور پاکستان کشمیریوں سے اپنا وعدہ پورا کرے گا۔ صدر ایوب خان نے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل یوتھانٹ سے بھی مطالبہ کیا کہ کشمیریوں سے کیے گئے وعدے پورے کیے جائیں۔ بین الاقوامی مبصرین نے بھارت کی جانب سے فضائی جارحیت پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔
اسی دوران، پاکستان کے دوست ممالک نے بھی اپنا کردار ادا کرنا شروع کر دیا تھا۔ ایئر مارشل (ر) اصغر خان کی کتاب کے مطابق، 9 ستمبر کو صدر ایوب خان کا خط لے کر ایئر مارشل (ر) اصغر خان چین روانہ ہوئے تاکہ جنگ میں درکار سامان، جن میں جنگی جہاز اور اسلحہ شامل تھا، کی درخواست کی جا سکے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان سفارتی محاذ پر بھی فعال تھا اور دوست ممالک سے مدد طلب کر رہا تھا۔
جنگ کے ہیروز: جرأت اور بہادری کی داستانیں
1965 کی جنگ کے دوسرے روز بھی بے شمار پاکستانی جوانوں نے لازوال بہادری کا مظاہرہ کیا اور دفاعِ وطن کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ ایم ایم عالم جیسے فضائی ہیروز کے علاوہ، بری فوج کے جوانوں نے بھی زمینی محاذوں پر غیر معمولی جرأت کا مظاہرہ کیا۔
چھمب-جوڑیاں سیکٹر میں غلام مہدی خان شہید جیسے جوانوں نے اپنے زخمی ساتھیوں کو بچاتے ہوئے جامِ شہادت نوش کیا۔ غلام مہدی خان ایک باسکٹ بال کھلاڑی تھے جنہوں نے جنگ چھڑتے ہی محاذ پر جانے پر اصرار کیا۔ انہیں چھمب-جوڑیاں سیکٹر بھیجا گیا جہاں ایک ٹینک شکن گولہ لگنے سے ان کا ٹینک ناکارہ ہو گیا۔ اپنے زخمی ساتھی کو بچاتے ہوئے وہ خود شہید ہو گئے۔
لاہور سیکٹر میں میجر عزیز بھٹی کی بہادری کی داستان بھی 7 ستمبر کو جاری رہی۔ وہ مسلسل پانچ دن تک بھارتی ٹینکوں کے سامنے ڈٹے رہے۔ ان کی قیادت اور عزم نے دشمن کو لاہور پر قابض ہونے سے روکا اور فوجیوں کے حوصلے بلند رکھے۔ یہ وہ وقت تھا جب پوری قوم ایک جان ہو کر اپنی افواج کے ساتھ کھڑی تھی۔ ماؤں اور بہنوں نے اپنے مصلوں پر بیٹھ کر دعائیں کیں، جس نے قوم کے غیر معمولی عزم کو ظاہر کیا۔ مزید تفصیلات کے لیے ایکسپریس نیوز کی اس رپورٹ کا مطالعہ کیا جا سکتا ہے، جس میں 1965 کی جنگ کے دوسرے روز کی صورتحال کو بیان کیا گیا ہے۔
نتیجہ
ستمبر 1965 کی جنگ کا دوسرا روز پاکستانی تاریخ کا وہ روشن باب ہے جو افواجِ پاکستان کے لازوال عزم، بے مثال بہادری اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ 6 ستمبر کی بھارتی جارحیت کے جواب میں 7 ستمبر کو پاک فضائیہ کی شاندار کارکردگی اور بری فوج کی زمینی محاذوں پر غیر متزلزل مزاحمت نے دشمن کے عزائم کو خاک میں ملا دیا۔ چھمب-جوڑیاں میں پاکستانی پیش قدمی اور لاہور سیکٹر میں بھارتی یلغار کی ناکامی نے ثابت کر دیا کہ پاکستانی قوم اپنی سرحدوں کی حفاظت کے لیے کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کرے گی۔ یہ دن ہمیں نہ صرف ان شہداء اور غازیوں کی یاد دلاتا ہے جنہوں نے اپنی جانیں نچھاور کیں، بلکہ اس حقیقت کو بھی اجاگر کرتا ہے کہ اتحاد، ایمان اور تنظیم کے ساتھ ہر مشکل کا مقابلہ کیا جا سکتا ہے۔ 7 ستمبر 1965 نے یہ پیغام دیا کہ پاکستان ایک ناقابل تسخیر ملک ہے، اور اس کے دفاع کا ہر سپاہی اپنے وطن کی خاطر آخری سانس تک لڑنے کا عزم رکھتا ہے۔
