مقبول خبریں

لارک جزیرے پر امریکی حملے کے بعد ایران کا جوابی وار؛ اردن میں 2 میزائل داغ دیے

لارک جزیرے پر امریکی حملے کے بعد مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی نے ایک نیا اور خطرناک موڑ اختیار کر لیا ہے، جب ایران نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے ارد میں واقع دو امریکی فوجی اڈوں کو بیلسٹک میزائلوں سے نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا۔ یہ واقعہ عالمی امن کے لیے سنگین خطرے کا باعث بن رہا ہے اور خطے میں کئی ہفتوں کی جنگ بندی کی کوششوں کو دھچکا لگا ہے، جس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان براہ راست فوجی تصادم کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔ یہ پیشرفت ایران اور امریکہ کے درمیان جاری تناؤ کو ایک نئی سطح پر لے گئی ہے، جہاں دونوں فریق ایک دوسرے کے خلاف براہ راست فوجی اقدامات کر رہے ہیں۔ ایران کی جانب سے یہ جوابی کارروائی امریکہ کی جانب سے آبنائے ہرمز میں بحری بارودی سرنگیں بچھانے کی ایرانی کوششوں کو روکنے کے دعوے کے جواب میں کی گئی ہے، جس نے عالمی سطح پر تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔ خطے کی صورتحال تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے، اور بین الاقوامی برادری اسے انتہائی گہری نظر سے دیکھ رہی ہے۔

خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی: لارک جزیرے پر امریکی حملہ

امریکی فورسز نے 30 اگست 2026 کو ایران کے لارک جزیرے پر ایک فضائی حملہ کیا، جس میں پاسدارانِ انقلاب کے دو راکٹ لانچرز کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا گیا۔ امریکی سینٹرل کمانڈ کے ترجمان کے مطابق، یہ کارروائی اس وقت کی گئی جب پاسدارانِ انقلاب کے اہلکار آبنائے ہرمز میں بحری بارودی سرنگیں پہنچانے کے لیے راکٹ داغنے کی تیاری کر رہے تھے۔ آبنائے ہرمز، جو خلیج فارس میں واقع ہے، دنیا کے اہم ترین سمندری راستوں میں سے ایک ہے جہاں سے عالمی تیل کی ترسیل کا ایک بڑا حصہ گزرتا ہے۔ اس سمندری راستے پر کسی بھی قسم کی رکاوٹ عالمی معیشت پر گہرے منفی اثرات مرتب کر سکتی ہے۔ لارک جزیرہ ایران کی اہم بندرگاہ بندر عباس کے قریب آبنائے ہرمز میں واقع ہے اور اس کی تزویراتی اہمیت بہت زیادہ ہے۔

امریکی حکام کا دعویٰ ہے کہ یہ حملہ کئی ہفتوں بعد ایران میں امریکہ کی پہلی معلوم فضائی کارروائی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ ہفتے دعویٰ کیا تھا کہ آبنائے ہرمز میں ایران کی جانب سے بچھائی گئی تمام بحری بارودی سرنگیں تباہ یا ہٹا دی گئی ہیں، تاہم ایران نے اس دعوے کو محض پروپیگنڈا قرار دیا تھا۔ اس حملے کے بعد ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا کہ امریکی حملے میں متعدد افراد ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں۔ ایران نے امریکہ کو جوابی کارروائی اور “سزا” دینے کی دھمکی بھی دی تھی، جس سے خطے میں کشیدگی میں مزید اضافہ ہو گیا تھا۔

  • لارک جزیرے کی تزویراتی اہمیت: لارک جزیرہ خلیج فارس کے مشرقی سرے پر آبنائے ہرمز میں واقع ہے، جو ایران کے صوبہ ہرمزگان کا حصہ ہے۔ اس جزیرے کی کل لمبائی 10.5 کلومیٹر ہے اور یہ ایک بیضوی شکل کا جزیرہ ہے۔ اس کی جغرافیائی حیثیت اسے عالمی بحری تجارت اور تیل کی ترسیل کے لیے ایک انتہائی اہم مقام بناتی ہے۔ یہ جزیرہ قشم سے 9 کلومیٹر شمال مغرب میں اور ہرمز سے 17.5 کلومیٹر شمال میں واقع ہے۔ اس کی عسکری اہمیت کے پیش نظر، یہ اکثر فوجی مشقوں کا مرکز بھی رہا ہے۔
  • امریکی حملے کے دعوے اور ایرانی ردِ عمل: امریکی سینٹرل کمانڈ کے ترجمان نے کہا کہ انہوں نے آبنائے ہرمز میں پیدا ہونے والے “فوری خطرے” کے پیشِ نظر ایرانی فورسز کے خلاف “محدود اور ہدف بندی پر مبنی” کارروائی کی ہے۔ دوسری جانب، ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے امریکی حملے کو کھلی جارحیت قرار دیتے ہوئے اس میں فوجی اور شہریوں کے نشانہ بننے کا دعویٰ کیا اور بدلے کی دھمکی دی۔

امریکی حملے کے محرکات اور علاقائی استحکام پر اثرات

امریکی حملے کے پیچھے امریکہ کا یہ موقف تھا کہ وہ آبنائے ہرمز میں ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے بحری بارودی سرنگوں کی ممکنہ تنصیب کو روکنا چاہتا تھا۔ آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے ایک انتہائی اہم بحری گزرگاہ ہے اور یہاں کسی بھی قسم کی رکاوٹ یا فوجی سرگرمی عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں کو بری طرح متاثر کر سکتی ہے۔ امریکہ کا دعویٰ ہے کہ اس کا مقصد بین الاقوامی بحری آمدورفت کو محفوظ بنانا تھا اور یہ کارروائی ایک محدود نوعیت کا اقدام تھی۔

دوسری جانب، ایران نے امریکی کارروائی کو اپنی خودمختاری کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا اور اسے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی سمجھا۔ ایرانی حکام نے زور دیا کہ ان کے ملک کو اپنی دفاعی صلاحیتوں کو فروغ دینے اور اپنے سمندری مفادات کا تحفظ کرنے کا مکمل حق حاصل ہے۔ ایرانی پاسداران انقلاب کا مؤقف ہے کہ امریکی حملوں کا مقصد ایران کو نقصان پہنچانا تھا لیکن ان کی مسلح افواج ہر سطح پر جواب دینے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ اس واقعے نے خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی کو مزید بڑھا دیا ہے اور نئی صورتحال پیدا کر دی ہے، جس کے گہرے اثرات علاقائی استحکام پر مرتب ہو سکتے ہیں۔ جہاز رانی کے اعداد و شمار کے مطابق، کشیدگی میں اضافے کے بعد آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی جہازوں کی تعداد میں نمایاں کمی دیکھی گئی ہے۔

  • امریکی موقف: آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگوں کی تنصیب کا خدشہ: امریکہ کا کہنا ہے کہ ایرانی پاسداران انقلاب آبنائے ہرمز میں سمندری بارودی سرنگیں بچھانے کی تیاری کر رہے تھے، جو عالمی بحری ٹریفک کے لیے شدید خطرہ بن سکتی ہیں۔ اس کے پیش نظر امریکی فورسز نے “دفاعی کارروائی” کا دعویٰ کیا۔
  • ایرانی نقطہ نظر: خودمختاری کی خلاف ورزی اور جوابی کارروائی کا حق: ایران نے امریکی حملے کو اپنی سرزمین پر جارحیت قرار دیا ہے اور اس بات پر زور دیا ہے کہ اسے اپنی سرزمین کے دفاع کا پورا حق حاصل ہے۔ ایران نے جوابی کارروائی کی دھمکی بھی دی تھی جس پر فوری عمل کیا گیا۔
  • عالمی تجارت پر اثرات اور تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ: آبنائے ہرمز میں بڑھتی ہوئی کشیدگی عالمی تیل کی سپلائی کو متاثر کر سکتی ہے اور اس کے نتیجے میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ اس سے عالمی معیشت پر منفی اثرات مرتب ہوں گے جو پہلے ہی متعدد چیلنجز کا سامنا کر رہی ہے۔

ایران کا فوری اور طاقتور جوابی وار: اردن میں میزائل داغ دیے

امریکی حملے کے فوری بعد، ایران نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے اردن میں موجود دو امریکی فوجی اڈوں کو میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا۔ ایرانی پاسداران انقلاب نے کہا کہ اس کی ایرو اسپیس فورس نے لارک جزیرے پر امریکی حملے کے جواب میں اردن کے کنگ حسین اور الازرق ایئر بیسز کو بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنایا۔ یہ حملے “یا محمد ابنِ عبداللہ (ص)” کے کوڈ کے ساتھ جارح کو سزا دینے کے لیے شروع کیے گئے تھے۔ ایرانی سرکاری میڈیا نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ایران نے امریکی بحری جہازوں کو بھی میزائلوں سے نشانہ بنایا اور خطے میں موجود امریکی فوجی اڈوں پر بھی حملے کیے۔

پاسداران انقلاب کے مطابق، ان حملوں میں امریکی فضائی اڈوں پر لڑاکا طیاروں کے ٹھکانے اور تکنیکی و دیکھ بھال کا بنیادی ڈھانچا تباہ کر دیا گیا ہے، اور حملے میں بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچایا گیا ہے۔ تاہم، اردن کی مسلح افواج اور امریکی سیکیورٹی حکام نے ایرانی دعووں کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ اردن کے دفاعی نظام نے فضائی حدود میں داخل ہونے والے اکثر میزائلوں کو فضا میں ہی تباہ کر دیا۔ اردنی حکام کے مطابق، اس جوابی کارروائی میں کسی بھی قسم کے جانی نقصان کی کوئی اطلاع نہیں ملی۔ اس سے قبل جولائی 2026 میں بھی اردن میں امریکی اڈوں پر ایرانی حملوں میں درجنوں فوجی زخمی ہونے کا انکشاف ہوا تھا، جو خطے میں کشیدگی کی تاریخ کا ایک حصہ ہے۔

  • اردن میں امریکی اڈوں کو ہدف بنانا: ایران نے خاص طور پر اردن کے کنگ حسین اور الازرق ایئربیسز کو نشانہ بنایا، جو خطے میں امریکی فوجی موجودگی کے اہم مراکز ہیں۔ اردن امریکہ کا ایک اہم اتحادی ہے اور اس کے پاس سیکڑوں امریکی ٹرینر موجود ہیں، جو سال بھر وسیع پیمانے پر فوجی مشقیں کرتے ہیں۔
  • پاسداران انقلاب کا دعویٰ اور فوجی آپریشن کا کوڈ: ایرانی پاسداران انقلاب نے اپنے حملوں میں امریکی ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا ہے کہ تہران کی جانب سے دشمن کو مزید جواب اور سزا دی جائے گی۔ یہ حملے ‘یا محمد ابنِ عبداللہ (ص)’ کے کوڈ کے ساتھ کیے گئے تھے۔
  • اردن اور امریکہ کا ردِ عمل: میزائلوں کو روکنے کا دعویٰ: اردن کی فوج نے دعویٰ کیا کہ اس کے فضائی دفاعی نظام نے فضائی حدود میں داخل ہونے والے 8 میزائلوں کو فضا میں ہی تباہ کر دیا۔ امریکی ذرائع نے بھی تصدیق کی ہے کہ ایران سے فائر کیے گئے تقریباً تمام میزائل ناکارہ بنا دیے گئے اور کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔
پہلوامریکی دعویٰ (لارک جزیرے پر حملہ)ایرانی دعویٰ (اردن پر جوابی حملہ)
ہدفلارک جزیرے پر پاسداران انقلاب کے 2 راکٹ لانچرزاردن میں 2 امریکی فوجی اڈے (کنگ حسین، الازرق ایئربیس) اور بحری جہاز
محرکآبنائے ہرمز میں بحری بارودی سرنگیں بچھانے کی ایرانی کوششوں کو روکنالارک جزیرے پر امریکی حملے کا جواب اور خودمختاری کی خلاف ورزی کا بدلہ
استعمال شدہ ہتھیارڈرونز کے ذریعے فضائی کارروائیبیلسٹک میزائل اور ڈرونز
جانی نقصان (فریقین کے مطابق)کوئی ذکر نہیں کیا گیاایرانی حملے میں امریکی ٹھکانوں کو “شدید نقصان”
فریق مخالف کا ردِ عملایرانی پاسداران انقلاب نے متعدد ہلاکتوں کا دعویٰ کیااردن اور امریکہ نے بیشتر میزائلوں کو روکنے اور کسی جانی نقصان نہ ہونے کا دعویٰ کیا

ایران کا میزائل پروگرام اور علاقائی طاقت

ایران کا میزائل پروگرام اس کی دفاعی حکمت عملی کا ایک اہم حصہ ہے، اور یہ خطے میں اس کی عسکری طاقت کا ایک اہم ستون سمجھا جاتا ہے۔ امریکہ کے ڈائریکٹر نیشنل انٹیلی جینس آفس کے مطابق، ایران کے پاس خطے میں سب سے زیادہ بیلسٹک میزائل ہیں۔ ایران ٹھوس اور مائع ایندھن والے دونوں طرح کے میزائل فائر کر چکا ہے اور اس نے اپنے میزائلوں کی رینج اور صلاحیت کو مسلسل بہتر کیا ہے۔ ایران نے 2023 میں اپنا پہلا مقامی سطح پر تیار کیا گیا ہائپر سونک بیلسٹک میزائل تیار کرنے کا دعویٰ بھی کیا تھا۔

ایران کے پاسداران انقلاب کا اس پروگرام میں کلیدی کردار ہے۔ پاسداران انقلاب، جو 1979 کے انقلاب کے بعد قائم ہوئی تھی، ایران کی نظریاتی سرحدوں کی نگہبانی اور انقلاب کے خلاف اندرونی و بیرونی سازشوں کا مقابلہ کرنے کے لیے بنائی گئی تھی۔ یہ تنظیم صرف ایک فوجی قوت نہیں بلکہ اس کے دائرہ کار میں فضائی، بحری اور زمینی افواج کے علاوہ قدس فورس بھی شامل ہے جو خطے میں ایران کے اتحادی گروہوں کے ساتھ رابطے میں رہتی ہے۔ پاسداران انقلاب کا میزائل پروگرام کسی بھی مذاکرات کی حدود میں نہیں آتا، اور اس پر کسی بھی گفتگو کی گنجائش نہیں، جیسا کہ ایرانی سپریم لیڈر کے مشیر نے واضح کیا تھا۔ یہ ایران کی ڈیٹرنس حکمت عملی کا ایک اہم جزو ہے، جس کا مقصد کسی بھی جارحیت کی صورت میں بھرپور جواب دینے کی صلاحیت کو برقرار رکھنا ہے۔

  • میزائلوں کی اقسام اور ان کی رینج: ایران کے پاس ‘سجیل‘ نامی میزائل ہے جو 17 ہزار کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے 2500 کلومیٹر تک مار کر سکتا ہے۔ ‘خیبر’ کی رینج 2000 کلومیٹر ہے جبکہ ‘حاج قاسم’ 1400 کلومیٹر تک مار کر سکتا ہے۔ ‘شہاب تھری’ اور ‘عماد ون’ جیسے میزائل بھی ایران کے ہتھیاروں میں شامل ہیں۔ امریکی حکام نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ایران 2035 تک بین البراعظمی بیلسٹک میزائل تیار کر سکتا ہے۔
  • پاسداران انقلاب کا کردار اور اس کی تاریخ: پاسداران انقلاب اسلامی (IRGC) ایران کی سب سے طاقتور عسکری تنظیم ہے، جس کی تعداد سوا لاکھ سے زائد ہے۔ اس میں بسیج رضاکار فورس اور القدس فورس شامل ہیں، جو ملکی اور علاقائی سطح پر ایران کے مفادات کا تحفظ کرتی ہیں۔ پاسداران انقلاب براہ راست رہبرِ اعلیٰ کو جواب دہ ہے اور اس کا مشن انقلاب کی نگہبانی اور بیرونی سازشوں کا مقابلہ کرنا ہے۔
  • ایران کی عسکری حکمت عملی اور ڈیٹرنس: ایران کی عسکری حکمت عملی میں میزائل پروگرام کو ایک اہم ڈیٹرنس کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ ایران کا یہ ماننا ہے کہ فوجی ڈیٹرنس ہی جنگ کے سائے کو ہٹانے کا صحیح طریقہ ہے۔ یہ پروگرام ایران کو خطے میں ایک مضبوط فوجی طاقت کے طور پر پیش کرتا ہے جو کسی بھی حملے کا مؤثر جواب دینے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

مشرق وسطیٰ میں امریکی فوجی موجودگی اور اس کے مضمرات

مشرق وسطیٰ میں امریکہ کی وسیع فوجی موجودگی کئی دہائیوں پر محیط ہے، جہاں وہ اپنے اتحادیوں کو اعتماد دینے، تربیت دینے اور خطے میں اپنے تزویراتی مفادات کا تحفظ کرنے کے لیے موجود ہے۔ اردن، جو امریکہ کا ایک اہم علاقائی اتحادی ہے، کئی امریکی فوجی اڈوں کی میزبانی کرتا ہے، جن میں موفق السلطی ایئر بیس اور کنگ حسین ایئر بیس شامل ہیں۔ ان اڈوں پر امریکی فوجیوں کی موجودگی خطے میں طاقت کے توازن کو برقرار رکھنے اور ممکنہ خطرات کا مقابلہ کرنے کے لیے اہم سمجھی جاتی ہے۔

اردن کے علاوہ امریکہ کی فوجی موجودگی قطر (العدید ایئر بیس)، بحرین، کویت، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات میں بھی ہے۔ شام میں بھی امریکہ کے تقریباً 900 فوجی موجود ہیں جو داعش کے خلاف لڑ رہے ہیں اور مقامی فورسز کو مشاورت فراہم کر رہے ہیں۔ ایران کے حالیہ میزائل حملوں نے اردن میں امریکی فوجی موجودگی کی حساسیت کو اجاگر کیا ہے، اور اس سے خطے میں امریکی افواج کی حفاظت کے حوالے سے نئے سوالات اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔ اس صورتحال سے امریکی پالیسی سازوں پر دباؤ بڑھ رہا ہے کہ وہ خطے میں اپنی حکمت عملی کا دوبارہ جائزہ لیں۔ اسرائیل نے بھی ایران کی جوہری یا میزائل پروگرام میں پیش رفت کی صورت میں دوبارہ فوجی کارروائی کی دھمکی دی ہے، جس سے خطے میں مزید محاذ آرائی کا خدشہ ہے۔

  • اردن میں امریکی فوجی اڈے اور ان کی اہمیت: اردن میں موجود امریکی فوجی اڈے، جیسے کہ الازرق ایئر بیس، شام میں جاری تنازعے اور خطے میں شدت پسند تنظیموں کے خلاف کارروائیوں کے لیے اہم حکمت عملی کے مراکز رہے ہیں۔ یہ اڈے اردن کی فضائیہ کے لیے بھی اہم ہیں اور امریکی جنگی طیاروں کی تعیناتی کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔
  • خطے میں امریکی اتحادیوں پر حملوں کے ممکنہ اثرات: ایران کی جانب سے اردن میں امریکی اڈوں پر حملے سے خطے میں امریکی اتحادیوں، خاص طور پر اسرائیل پر بھی بالواسطہ دباؤ بڑھا ہے۔ امریکہ نے اسرائیل کو شام اور ایران میں کشیدگی بڑھانے سے باز رہنے کا انتباہ بھی جاری کیا تھا۔
  • امریکی پالیسی پر بڑھتا ہوا دباؤ: خطے میں امریکی فوجیوں پر حملے اور بڑھتی ہوئی کشیدگی امریکی انتظامیہ پر دباؤ بڑھا رہی ہے کہ وہ ایران کے خلاف اپنی حکمت عملی کا از سر نو جائزہ لے۔ امریکی وزارت خزانہ ایران پر مزید معاشی دباؤ بڑھانے کے لیے بینکوں کو ہدف بنا رہی ہے اور نئی ثانوی پابندیاں عائد کرنے کا اعلان کر چکی ہے۔

عالمی ردِ عمل اور سفارتی کوششیں

مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر عالمی برادری نے گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ اقوام متحدہ نے ایسے کسی بھی نئے اقدام یا بیانات پر تشویش کا اظہار کیا ہے جو صورتحال کو مزید کشیدہ کر سکتے ہیں، اور اس بات پر زور دیا ہے کہ خطے میں توانائی اور خوراک کی ترسیل بھی متاثر ہو رہی ہے۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے ترجمان نے پائیدار حل کے لیے مذاکرات کو واحد راستہ قرار دیا ہے۔

علاقائی اور عالمی سطح پر کشیدگی کو کم کرنے کے لیے سفارتی کوششیں بھی جاری ہیں۔ عراق نے ایران اور امریکہ کے درمیان ثالثی کی پیشکش کی ہے، یہ کہتے ہوئے کہ بغداد دونوں ممالک کے درمیان رابطے کا ذریعہ بننے کے لیے تیار ہے۔ عراقی وزیراعظم کے سکیورٹی مشیر قاسم الاعرجی نے زور دیا کہ ایسا معاہدہ طے پانا چاہیے جو صرف ایران اور امریکہ کے ہی نہیں بلکہ پورے خطے کے مفادات اور حقوق کو بھی مدنظر رکھے۔ پاکستان، قطر اور دیگر ممالک بھی سیاسی حل کے لیے ثالثی اور سفارتی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ حالیہ کشیدگی کے بعد ایران اور سعودی عرب کے درمیان بھی رابطہ ہوا ہے، جسے کشیدگی میں کمی کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ تاہم، امریکی وزیر خزانہ نے ایران پر نئی پابندیوں کا اعلان کرتے ہوئے اقتصادی دباؤ بڑھانے کی دھمکی دی ہے، جو سفارتی کوششوں کو مزید پیچیدہ بنا سکتا ہے۔

  • اقوام متحدہ کی تشویش: اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریش کے ترجمان نے خطے میں صورتحال کی ممکنہ کشیدگی پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے اور تمام فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی ہے۔ غزہ اور لبنان میں جاری تشدد کے باعث شہری ہلاکتوں اور بنیادی ڈھانچے کو نقصان میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔
  • ثالثی کی کوششیں (عراق، پاکستان، قطر): عراق نے ایران اور امریکہ کے درمیان ثالثی کی پیشکش کی ہے، اور اسے دونوں ممالک کے درمیان رابطے کا پل قرار دیا ہے۔ پاکستان اور قطر جیسے ممالک بھی خطے میں امن اور استحکام کے لیے سفارتی کوششیں کر رہے ہیں۔
  • عالمی برادری کے خدشات اور امن کی اپیل: عالمی برادری مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کو تشویش کی نگاہ سے دیکھ رہی ہے، کیونکہ اس کے نتیجے میں ایک وسیع تر علاقائی تنازع جنم لے سکتا ہے جو عالمی امن اور معیشت کے لیے تباہ کن ہوگا۔

مستقبل کے ممکنہ منظرنامے اور علاقائی استحکام

لارک جزیرے پر امریکی حملے اور اس کے جواب میں اردن میں ایرانی میزائل حملوں نے مشرق وسطیٰ میں ایک نئی کشیدگی پیدا کر دی ہے جس کے مستقبل کے منظرنامے انتہائی غیر یقینی ہیں۔ ایک طرف سفارتی کوششیں جاری ہیں جن کا مقصد فریقین کو مذاکرات کی میز پر لانا ہے، جبکہ دوسری جانب فوجی کارروائیوں کا سلسلہ مزید بڑھنے کا خدشہ موجود ہے۔ عراق، پاکستان اور قطر جیسی ریاستوں کی ثالثی کی کوششیں اگرچہ مثبت پیش رفت ہیں، لیکن امریکہ اور ایران کے درمیان گہرے عدم اعتماد اور تزویراتی مفادات کے تصادم کے باعث کسی پائیدار حل تک پہنچنا مشکل دکھائی دیتا ہے۔ امریکی صدر ٹرمپ کے بیانات اور امریکی وزارت خزانہ کی جانب سے ایران پر معاشی دباؤ بڑھانے کے اعلانات بھی کشیدگی میں کمی کی راہ میں رکاوٹ بن رہے ہیں۔

اگر یہ کشیدگی مزید بڑھتی ہے تو اس کے علاقائی استحکام پر گہرے منفی اثرات مرتب ہوں گے۔ آبنائے ہرمز کی بندش یا اس میں فوجی سرگرمیوں میں اضافہ عالمی تیل کی سپلائی کو شدید متاثر کرے گا، جس کے نتیجے میں عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتیں آسمان کو چھو سکتی ہیں۔ یہ صورتحال نہ صرف خطے کی معیشت بلکہ عالمی معیشت کو بھی تباہی کے دہانے پر لا کھڑا کر سکتی ہے۔ ایران کا مضبوط میزائل پروگرام اور امریکہ کی خطے میں وسیع فوجی موجودگی دونوں فریقین کو ایک خطرناک کھیل میں دھکیل رہے ہیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ “جنگ بندی اور سفارتی راستے اپنانے کی دلکش صدائیں” اس وقت تک کامیاب نہیں ہو سکتیں جب تک فریقین حقیقی معنوں میں اعتماد سازی کے اقدامات نہ کریں۔